Jis K Anay Saya
Poet: shanzeh iqbal By: shanzeh iqbal, lahoreJis K Anay Say
Wo Jis K Anay Say Hazar Jugnoo
Roshan Hon Us K Rukhsaar Pe
Anay Ko To Kiaa Baat Kijyay
Hashar Samanian Us Ki Soch He Bapa Kiay Jaay
Fitna Pardazian Anjum Araiaan
Sab Usi K Dam Say
Huay Kuch Ham Yun Makaan Say La Makaaan
Phirain Dar Badar
Us Ki Khabar
Kaheen Bee Naheen
Us Ka Pata Kisi Ko Naheen
Ik Jageer Jo Ataa Ki Us Ne Mughay
Yad KiIs Yaad Main Jo Kaif Hay
Jo Saroor Hay Mil Jay WO
To Shaid Phir Na Ho
Magar Ik Raaz Hay
Kuch Chupa Hua
Kuch Khula Hua
Us Ki Yaad Hay Is Qadar Makhmoor Kun
Or Agar Samanay Aaa Jaay Wo
Khud Say Main Bekhabar
Mabhoot Or Begaana E Hosho Khirad
Hon Gee Kia Kia Qiamtain
Karoon Kasay Main Ya Wazahatain
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






