Ab To Door Janey Ka Jee Krta Ha
Poet: Salar Ahmed Salar By: Salar Ahmed, RawalpindiAb To Door Janey Ka Jee Krta Ha
Tujh Sey Bichr Janey Ka Jee Krta Ha
Jo Kt Rahi Ha Dil Pr Humarey
Be-Khabbar Hain Hm Sb Sey
Jo Chl Raha Tha Sng Humarey
Jo Larh Raha Tha Sb Sey
Usey Mitaney Ka Jee Krta Ha
Usey Bhulaney Ka Jee Krta Ha
Ha Gham O Alam To Faani
Ha Ye Saans Bhi Faani
Jo Kiya Aitbaar Phir Torh Diya
Ha Ye Ikhtayar Bhi Faani
Us Aitbaar Ko Nibhaney Ka Jee Krta Ha
Us Rishtey Ko Sanwarney Ka Jee Krta Ha
Zindagi To Hr Naye Subh Ka Naam Ha
Hr Rishtey Pr Aitbaar Ka Naam Ha
'Salar' To Sar E Mehfil Tanha Ha Khara
Hr Shaks Ka Yahan Koe Naam Ha
Fqt Aik Naam Ko Suna'nain Ka Jee Krta Ha
Ab To Door Janey Ka Jee Krta Ha
Tujh Sey Bichr Janey Ka Jee Krta HaA
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






