یہ مرا حسن ، جوانی بھی نہیں ہو سکتی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, malaysiaیہ مرا حسن ، جوانی بھی نہیں ہو سکتی
بن ترے رات سہانی بھی نہیں ہو سکتی
اک ترے ساتھ مقدر بھی نہیں مل سکتا
زندگی رات کی رانی بھی نہیں ہو سکتی
اک ملاقات کے وعدے سے گریزاں رہنا
تری فرقت کی نشانی بھی نہیں ہو سکتی
ہم تجھے پیار، محبت بھی نہیں کر سکتے
اور تجھے یاد دہانی بھی نہیں ہو سکتی
گر نئے موڑ پہ ملنے سے ہیں قاصر ہم تم
پھر کوئی راہ پرانی بھی نہیں ہو سکتی
جس سے گزرے نہ تری یاد کا جھونکا وشمہ
میں تو اس باغ کی رانی بھی نہیں ہو سکتی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






