!!!کون کہتا ہے تجھے بھلا دیا هم نے
Poet: سیده سعدیه عنبر جیلانی By: سیده سعدیه عنبر جیلانی, فیصل آباد, پنجاب, پاکستانکون کہتا ہے تجھے بھلا دیا ہم نے
سچ یہ کہ خود کو بھلا دیا ہم نے
تھک کے بے حسی کی دنیا میں بہت
احساس اپنا بھی سلا دیا ہم نے
لکھا تھا لفظ محبت بھی کبھی
آنسو اپنے سے مٹا دیا ہم نے
اناء پرست، انتہاء پرست بھی تھے
خود کو خود ہی گنوا دیا ہم نے
رکھنا تھا چھپا کے جو راز بھی خود سے
آنکھوں سے سب کو سنا دیا ہم نے
اپنا بنا لیں تو سدا ساتھ رہو گے؟
لو خود کو بھی تمہارا بنا دیا ہم نے
بڑھتی ظلمت میں اپنے حصے کا چراغ
بجھ کے خود بھی جلا دیا ہم نے
اپنی ذات میں رکھتے تھے اشکوں کا طوفاں
ضبط لازم تھا سو چھپا دیا ہم نے
کچھ نہ دکھا تو خدا نظر آیا
کچھ نہ سوجھا تو ہاتھ پھیلا دیا ہم نے
محبت میں واجب ہی نہیں اناء کا ہونا
حال اپنا تجھے سنا دیا ہم نے
وہ جو رکھتے تھے بہت ضبط عنبر
سنا کے اپنی انہیں رولا دیا ہم نے.
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






