نہ جانے کس موڑ پہ کھڑی ہو گی
Poet: Jamshed By: Jamshed, Dubai نہ جانے کس موڑ پہ کھڑی ہو گی
وہ اک لڑکی جسے چھوڑ آیا میں
بہت دل تھا میرا رکنے کو وہاں مگر کیا کرتا
مجبوری تھی ہی ایسی کہ لوٹ آیا میں
میں جانتا ہوں بہت پیار ہے ہم میں لیکن
کسی اچھے کل کے لئے یہ سب بھول آیا میں
نہیں بھول پاتا ساتھ گزرے اسکے سارے دن رات
خواب آنکھوں میں لئے نیندیں وہاں چھوڑ آیا میں
اپنی تنہائی میں ہی کھویا رہتا میں ہر پل کام کے بعد
کسی کا ساتھ تو اسی کے ساتھ کھو آیا میں
اس کی یاد اور انتظار کسی اور کا ہونے نہیں دیتی
کہ اپنا دل اور پیار اسی کے پاس بھول آیا میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






