عجب تماشا کہوں یا اِس دل کی چاہت کی سچائی کہوں
Poet: مظہرؔ اقبال گوندل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachiعجب تماشا کہوں یا اِس دل کی چاہت کی سچائی کہوں
خدا نے دکھایا ہے مجھے وہ ،اُسے دل کی ہر سچائی کہوں
یہ کیسی اُلفت ہے میری، اِسے میں اپنی گہرائی کہوں
کہ جس میں ڈوبا ہوں میں، اُسے میں اپنی بینائی کہوں
وہ میری آنکھوں میں ہے، اِسے میں اپنی بینائی کہوں
جو دل میں پنہاں ہے میرے، اُسے میں اپنی دانائی کہوں
یہ میری قسمت ہے کیسی، اِسے میں اپنی رُسوائی کہوں
کہ ہر اِک لمحہ ہے غم کا، اُسے میں اپنی تنہائی کہوں
نہ کوئی منزل ہے میری، نہ کوئی اَپنی رہنمائی کہوں
بس ایک بھٹکا مُسافر، اٰسے میں اپنی سودائی کہوں
یہ دل کا سودا ہے کیسا، اِسے میں اپنی پُشپایؑ کہوں
کہ جس میں کھویا ہے سب کچھ، اُسے میں اپنی نادایؑ کہوں
مظہرؔ یہ کیسی ہے دنیا، اِسے میں اپنی خدائی کہوں
کہ جس میں سب کچھ ہے فانی، اُسے میں اپنی بے ثبایؑ کہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






