تَن کے ساتھ سائے بھی، چھن گئے زمانے میں

Poet: مظہرؔ اِقبال گوندَل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachi

تَن کے ساتھ سائے بھی، چھن گئے زمانے میں
ہم وفا نبھاتے تھے، لوگ تھے فسانے میں

دل کے زخم گہرے ہیں، ہنستے ہیں مگر اب بھی
غم چھپا کے رکھنا ہے، رسم ہے خزانے میں

اک چراغ امیدوں، مظہرؔؔ نے جلایا تھا
رات بھر وہ جلتا ہے، تیرگی کے خانے میں

ہم کو جن پہ ناز تھا، چھوڑ کر چلے وہ بھی
کتنے خواب ٹوٹے ہیں، ایک ہی بہانے میں

زندگی کی راہوں میں، تنہائیاں جیتی ہیں
ہم نے درد رکھّا ہے، مسکراہٹوں شانے میں

لوگ زخم دیتے ہیں، پھر سوال کرتے ہیں
کیا سکوت اچھا تھا، یا خلش دکھانے میں؟

Rate it:
Views: 3
15 Jan, 2026
More Love / Romantic Poetry