اگر تم دو اجازت تو
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Malaysiaابھی سرگوشیاں کرنی ہیں چپکے سے
اگر تم دو اجازت تو
مجھے دینا ہے نازک سے تمہارے ہاتھ پر پوسہ
اگر تم اجازت تو۔۔۔۔۔ تمہاری جھولی بھرنی ہے
نئے موسم کے پھولوں سے
اگر دو اجازت تو ۔۔۔۔۔تم اتنا کھکھلا کر ہنس پڑو
وہ بات کہنی ہے ۔۔۔زرا سا پاس آو تو
تمہارے کا ن میں کہہ دوں
مجھے تم سے محبت ہے
تمہیں پوری اجازت ہے مجھے جو کہنا چاہو تم،
مجھے کہہ سکتے ہو جاناں
مگر میں جانی ہوں تم، مجھے کیا کہنا چاہو گے
سنو جاناںَ
میں بتلا وٓں
مجھے تم سے محبت ہے
یہی تم نے بھی کہنا تھاِ مجھے تم سے محبت ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






