"اک کام تو کرتا ہوں میں ” رونے کی طرح کا
Poet: By: ابنِ مفتی سید ایاز مفتی, houstonموتی میں سمندر کو پِرونے کی طرح کا
اک قطرہ کرے کام ڈبونے کی طرح کا
ادوں کے تسلسل سے پریشان سا ہوکر
اک کام تو کرتا ہوں میں ” رونے کی طرح کا”
عرصے سے مری نیند سے “یاداللہ ” نہیں ہے
جاگا بھی تو لگتا ہوں میں “سونے کی طرح کا “
ہاں یاد ہے جب آئے تو وہ گھر میں ہمارے
کچھ میں نے بِچھایا تھا ” بِچھونے کی طرح کا “
تکیہ تو نہیں لایا ہوں رومال میں اُ س کا
اِمشب ہے مجھے کام ” بِھگونے کی طرح کا “
شاکی ہی رہا رہا دل یہ مرا پاس تھا جب تک
اُ س نے بھی رکھا دل کو کِھلونے کی طرح کا
اس موڑ پہ یہ عشق مجھے لایا ہے یارو
نہ ہونے پہ لگتا ہے وہ ” ہونے کی طرح کا “
ساتھی وہ مرا ہوکے مرے ساتھ نہیں ہے
مفتی اُسے پایا بھی ہے ” کھونے کی طرح کا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






