اب تو لوٹ آؤ جانا کہ دسمبر آیا ہے
Poet: غلام عباس ساغر By: غلام عباس ساغر, Londonسرد ہوائیں چل پری اشقو ں نے طوفان مچایا ہے
اب تو لوٹ آؤ جانا کہ دسمبر آیا ہے
کتابوں میں رکھے پھول پھر سے مہک اٹھے
رُخ تیرا ہی ہر آئینے میں سمایا ہے
اب تو لوٹ آؤ جانا کہ دسمبر آیا ہے
خط خیال ،یاد اور یہ انتظار کب تک
اے بے رحم کیوں اتنا مجھے ستایا ہے
اب تو لوٹ آؤ جانا کہ دسمبر آیا ہے
پتوں کی آہٹ بھی چبھتی ہے دل کو
موسم کو کس نے رستہ میرے گھر کا دکھایا ہے
اب تو لوٹ آؤ جانا کہ دسمبر آیا ہے
زندہ ہوں تو بس تیری ہی امید پر ساغر ؔ
دل میں فقط تجھے ہی بسایا ہے
اب تو لوٹ آؤ جانا کہ دسمبر آیا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






