ہاتھ کی لکیر میں اُُُُسکا تو نشان نہ تھا
Poet: Haboor By: Haboor, ShahKot میں نے جسے چاہا وہ اتنا تو نایاب نہ تھا
اپنی آرزؤں کا شباب تو پہلے سے سیراب نہ تھا
اپنے تو خیال سے سب کچھ ہمیں مل جاتا
پر نصیبوں کی کہانی میں ایسا کچھ حساب نہ تھا
کیسے سمجھاؤں دل کو کہ بھول جائے پرانی باتیں
جو تجھے نہ مل سکا وہ تیرا نصیب نہ تھا
بے وجہ سا دکھ نہ جانے دل میں چھبتا ھے کیوں؟
اپنی زندگی میں پہلے تو یہ سوال نہ تھا
الفاظ کی تہوں میں کئی درد چھپائے ھوں
درد دل کا کیا کروں: جو نہ ھوتا تو کمال نہ تھا؟
بے وجہ کی الفت میں اپنا من جلائے ھوں
میرے ہاتھ کی لکیروں میں اُسکا تو نشان نہ تھا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






