کوئی فیصلہ جو اس کو سنانے نہیں دیا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلا کوئی فیصلہ جو اس کو سنانے نہیں دیا
اپنا بھی حال دل کو بتانے نہیں دیا
بیٹھی ہوں انتظار میں بے چینیاں لئے
اس کا پتہ سفر میں ہوانے نہیں دیا
تنہائیاں رفیق رہی ہیں تمام عمر
قرطاس پر بھی چہرہ سجانے نہیں دیا
یہ درد ہر مقام پہ رکھے گا مضطرب
جب اجنبی کو دل سے ہی جانے نہیں دیا
نڈرت نصیب ہوگی حریفوں کے درمیاں
دشمن کو اب چراغ جلانے نہیں دیا
اس کا رہا جدائی میں غیروں سے واسطہ
اپنوں کو دل میں آج بھی آنے نہیں دیا
وشمہ نہ ہوگا پیار پہ آہوں کا کچھ اثر
اس زندگی کو کچھ بھی دوانے نہیں دیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






