چراغِ دل کو میں شب بھر جلا کے دیکھتا ہوں میں
Poet: مظہرؔ اِقبال گوندَل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachiچراغِ دل کو میں شب بھر جلا کے دیکھتا ہوں میں
کسی صورت وہ رخسارِ وفا کو دیکھتا ہوں میں
شبِ ہجراں میں سوزِ شمع دل کو کھا گیا آخر
نہ آیا وہ، فقط نقشِ تمنا دیکھتا ہوں میں
فغاں ہے، آہ ہے، اور اشکِ خوں رنگیں کی بارش ہے
اسی عالم میں اپنا ماجرا کو دیکھتا ہوں میں
کبھی پروانہ بن کر شمعِ رخ کے گرد جلتا تھا
اب اپنی خاک میں وہ داغِ شعلہ دیکھتا ہوں میں
وعدۂ وصل تھا جس پر دلِ بیتاب ٹھہرا تھا
اسی وعدے کو اب خواب و ہوا کو دیکھتا ہوں میں
نہ وہ آیا، نہ پیغامِ کرم کوئی سحر لایا
فقط ہر سمت گردِ انتظار کو دیکھتا ہوں میں
کہے مظہرؔ یہ قصہ دردِ ہجراں کی حکایت ہے
جلا کر دل، اسی سوزِ نہاں کو دیکھتا ہوں میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






