محبت کی تصو یر
Poet: معین فخر معین By: معین فخر معین, کراچی کیا رب نے بنائی ھے تقد یر محبت کی
رہتی ھے ادھوری ہر تصو یر محبت کی
رسوا جو محبت کو کرتے ھیں زمانے میں
کیا ایسے بھلا جانیں توقیر محبت کی
آنکھوں نے سنبھال رکھا نہ راز محبت کو
سارے جہاں میں کردی تشہیر محبت کی
دامن میں زر پرستوں کے جاتی نہیں ھے یہ
پاتے ھیں اہل دل یہ جا گیر محبت کی
آغاز محبت تو اپنا جاں فزا تھا دوست
پوچھو نہ انتہا اس دل گیر محبت کی
راہ زوال نہیں ایسی فتح کو د نیا میں
دل کو جو بناتے ھیں شمشیر محبت کی
آنکھوں سے سماتی وہ ہر خانہ دل میں
دیکھی ھے معین ایسی تاثیر محبت کی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






