غم فراق
Poet: معین فخر معین By: معین فخر معین, کراچی بھلا کیسے چھپاتے ہم جہاں سے
غم ہجراں ہہیں چہرے پہ عیاں سے
اب کہاں مہرباں تیرے ہجر میں
وہ لمحے جو کبھی تھے مہرباں سے
ہوئے یاد رفتہ کے دیپ روشن
جو گزرے ہم ترے در آستاں سے
نگاہوں نے کیے افشا راز دل
گلہ پہر کیسا اپنے راز داں سے
رنگ سرور نہ ہو تا زندگی میں
جو رہتے آپ یوں ہی بدگماں سے
ہو جائے آرزو ئے بہار پوری
کبھی گزرو تو میرے گلستاں سے
دشمن جاں و ہی ٹہرے ہمارے
تہے عز یز جو ہمیں سارے جہاں سے
محبت اپنی تابندہ رھے یوں
ہمیں دیکھیں ستارے آسماں سے
معین دل ھے وہ نصاب محبت
گزرتا ھے روز اک امتحاں سے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







