عکسِ حیات گرد پہ آنے نہیں دیا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلا عکسِ حیات گرد پہ آنے نہیں دیا
اور آئینے پہ چہرہ سجانے نہیں دیا
اب سوچتی ہوں میں بھی دعاؤں سے کام لوں
کچھ آسرا بھی مجھ کو دوا نے نہیں دیا
پر واز کیسے آپ کے ڈر سے میں چھوڑ دوں
جزبوں سے بھاگنے جو خدا نے نہیں دیا
سچ ہے کہ ہم جئے تو بڑی شان سے جئے
عزت کو سر کبھی بھی جھکانے نہیں دیا
جلتے ہیں میرے گھر میں اداسی کے جو چراغ
ہوا کو بھی میں نے ان کو بجھانے نہیں دیا
خونِ جگر میں ہاتھ تھے میرے اسی کئے
اس کو بھی کرب دل کا سنانے نہیں دیا
اسِ زندگی کی بھیڑ میں وشمہ جی گم تھے ہم
جس نے کسی کو اپنا بنانے نہیں دیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






