ساتھ رہنے کا جو اقرار نہیں ہو سکتا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاساتھ رہنے کا جو اقرار نہیں ہو سکتا
زندگی تجھ سے کبھی پیار نہیں ہو سکتا
جس کو دشمن سے سروکار ہو ،دولت کی ہوس
وہ مرے ملک کا سالار نہیں ہو سکتا
آج بھی دل میں ترے نام کے چرچے ہیں بہت
آج بھی درد کا اظہار نہیں ہو سکتا
جس کی مٹی میں نہ ہو پیار کا جذبہ شامل
کوئی گلشن بھی تو گلزار نہیں ہو سکتا
کتنے معصوم ہیں آنکھوں کی بصارت کھو کر
اب یہ کہتے ہیں کہ دیدار نہیں ہو سکتا
جو ابھی عزت و تکریم سے واقف ہی نہیں
وہ کبھی صاحبِ دستار نہیں ہو سکتا
اس میں گر جان بھی جاتی ہے تو جائے وشمہ
یہ مرا عشق کبھی بار نہیں ہو سکتا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







