جفائیں آ زماؤ گی تو کچھ ایسی علامت بھی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Manila جفائیں آ زماؤ گی تو کچھ ایسی علامت بھی
وفائیں آ زماؤ گی تو پھر صداقت بھی
نرالی سوچ ہے اپنی انوکھا پیار ہے اپنا
جسے دیکھا نہیں اب تک تمہاری یہ محبت بھی
محبت کی خریداری جہاں سے کر رہی ہوں میں
خیال و خواب والا اک عجب ایسی رفاقت بھی
بظاہر تو وفاؤں کا کوئی رشتہ نہیں اس سے
جسے تو بندگی کہتی ہے وہ ایسی عبادت بھی
مری نیندیں اڑا کر جو مجھے بے چین رکھتا ہے
نہیں ہے دوسرا کوئی دلِ کی ہے حکایت بھی
یہی پتھر گلے میں ڈال لو ہیرا اسے جانو
جو ہیرا ڈھونڈنے نکلی تو پھر لیکن سہولت بھی
وشمہ جس سے تعلق ہے فقط میرا تصور تک
مجھے اقرار کرنا ہے مری خاموش چاہت بھی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






