تھک گیا ہوں میں جلا جلا کے اسے، وہ آتا ہی نہیں
Poet: مظہرؔ اِقبال گوندَل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachiتھک گیا ہوں میں جلا جلا کے اسے، وہ آتا ہی نہیں
دل کو بہلا کے بھی دیکھ لیا، سکون آتا ہی نہیں
رات بھر شمع کی صورت میں تڑپتا ہوں مگر
کوئی پروانہ مرے حال پہ اب آتا ہی نہیں
ہم نے چاہا کہ اسے یاد نہ کریں لیکن
دل ہے کہ اک لمحہ بھی اسے بھول پاتا ہی نہیں
کوئی امید کی کرن بھی نہیں اب دل میں
جیسے اس شہر میں سورج کبھی آتا ہی نہیں
وہ جو وعدہ تھا ملاقات کا، خوابوں میں سہی
اب تو خوابوں میں بھی وہ شخص نظر آتا ہی نہیں
یوں تو ہر شخص تسلّی کے لیے آتا ہے
کوئی اس درد کو لیکن کبھی سمجھاتا ہی نہیں
کہہ رہا مظہرؔ یہی حالِ دلِ زار اپنا
جس کو چاہا تھا وہی پاس بلاتا ہی نہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






