ترا خیال تری یاد آرزو تیری
Poet: Fazlul Hasan By: F.H.SIDDIQUI, Lucknow ترا خیال تری یاد آرزو تیری
تمام عمر رہی ہم کو جستجو تیری
بنا رہا تھا میں تصویر بیوفائی کی
شبیہ کیوں یہ ابھر آئی ہوبہو تیری
تمام رات سجی اپنی بزم تنہائی
تمام رات رہی خود سے گفتگو تیری
خیال تیرا سر شام کیوں نہ آئے ہمیں
دکھے ہے چاند میں تصویر ماہرو تیری
چمن کے گل سبھی مظہر ہیں تیری قدرت کے
ترا ہی رنگ ہے سب میں سبھی میں بو تیری
دیوار سے تری تصویر ماں ہٹا دی ہے
کہ آ نہ جائے کہیں یاد بے وضو تیری
تری غزل میں حسن چار چاند لگ جائیں
غزل جو گا کے پڑھے کدئ خوش گلو تیری
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






