بہار میں بھی خزاں ملی ہے
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiبہار میں بھی خزاں ملی ہے
یہاں ملی ہے وہاں ملی ہے
ملا غمِ ہجر وصل میں بھی
وفا یہ ہم کو کہاں ملی ہے
خرید لیتے وہاں سے کچھ ہم
ہمیں تو خالی دکاں ملی ہے
میں اس لیے آیا ہوں یہاں پر
ادھر مری جانِ جاں ملی ہے
میں بے وفا تو نہیں ہوں لیکن
مہ جبیں وہ کہاں ملی ہے
سکون ملتا نہیں کہیں پر
کہ شہر اپنے اماں ملی ہے
چلو خدا کی کریں عبادت
عشاء کی اب اذاں ملی ہے
نصیب میرے برے نہیں ہیں
حسین لڑکی جواں ملی ہے
ملا ہوں دو سال بعد ان کو
دعائیں کرتی اماں ملی ہے
خرید لی ہے گھڑی تو مہنگی
خلوص سے ارزاں ملی ہے
نہیں ہے شہراد کوئی ساجن
مجھے محبت کہاں ملی ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






