اندھیروں پر جبینِ دہر سے کر وار بیٹھے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلااندھیروں پر جبینِ دہر سے کر وار بیٹھے ہیں
نئے سُورج کی خاطر برسرِ پیکار بیٹھے ہیں
وطن کی سرزمیں کو نسلِ کہنہ زخم دے بیٹھی
مگر ہم زخم بھرنے کے لئے تیّار بیٹھے ہیں
وجُودِ نصف اپنا سازشوں میں کٹ چکا صد حیف!
وُہی سازش کی رُت ہے، ہم مگر لاچار بیٹھے ہیں
زبانوں کی ہی بنیادوں پہ کیوں تقسیم کرتے ہو؟
سنو! زنجیرِ پاکستاں میں ہم ہشیار بیٹھے ہیں
مصمَّم عزم سے کرنی ہے ہم کو جستجو لوگو
اِسی مٹّی میں ہِیروں کے چُھپے انبار بیٹھے ہیں
مقدّم سب پہ رکھنا ہے، مفادِ ملک کو وشمہ
وطن میں ہر جگہ چھپ کر کئی غدّار بیٹھے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






