یہ ظالم جو گزشتہ سرخ رات تھی
Poet: رفیق خان By: رفیق خان , Ahmedpur Eastیہ ظالم جو گزشتہ سرخ رات تھی
میرے محبوب پر بہت درد ناک تھی
باقیوں پہ گزرتی وه ہوجاتیں ناپاک
سرخ رنگ کی قسم رات "وہ" پاک تھی
سرخ تھی "وہ" رات سرخ تھا ہر رنگ
سرخ تھے ہر پھول سرخ تھا جوپلنگ
جو میں ہوتا وہاں تو بتاتا اسے
جھولی میں سر رکھ کر دباتااسے
ہے میرے لیے بہت مقدس یہ رات
اسکو لگا کر گلے سے میں بتاتا اسے
بستر پر جو نظر آتا کوئی داغ
سرخ پتیوں سے میں چھپاتا اسے
اسکی آنکھوں سےجاری جو برسات تھی
اس کے رونے پہ افسردہ خود رات تھی
یہ ظالم جو گزشتہ سرخ رات تھی
میرے محبوب پر بہت درد ناک تھی
باقیوں پہ گزرتی وه ہوجاتیں ناپاک
سرخ رنگ کی قسم رات "وہ" پاک تھی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






