یہ طے ہے اپنی چاہت پہ ستم ہونے نہ دیں گے ہم۔۔ گیت
Poet: Dr.Zahid sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanیہ طے ہے اپنی چاہت پہ ستم ہونے نہ دیں گے ہم
چمن میں فصل کانٹوں کی کبھی بونے نہ دیں گے ہم
یہ وعدہ ہے نبھائیں گے وفا کی ریت کو جانم
تمھیں بانہوں میں لے کر پیار دیں گے ہر گھڑی،ہر دم
کسی بھی بات پر تم کو کبھی رونے نہ دیں گے ہم
یہ طے ہے اپنی چاہت پہ ستم ہونے نہ دیں گے ہم
سفر میں چور ہو کر ہم کبھی واپس نہ آئیں گے
پکڑ کر ہاتھ منزل کی طرف بڑھتے ہی جائیں گے
تمھیں گرد سفر میں پل کو بھی کھونے نہ دیں گے ہم
یہ طے ہے اپنی چاہت پہ ستم ہونے نہ دیں گے ہم
ملن کی رات قسمت پاس لائے گی تمھیں جاناں
رہے گی بے قراری صبح ہونے تک ہمیں جاناں
یہ سوچاہے تمھیں بھی رات بھر سونے نہ دیں گے ہم
یہ طے ہے اپنی چاہت پہ ستم ہونے نہ دیں گے ہم
یہ طے ہے اپنی چاہت پہ ستم ہونے نہ دیں گے ہم
چمن میں فصل کانٹوں کی کبھی بونے نہ دیں گے ہم
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






