یہ دل خستہ خستہ سدا نہ رہے گا
Poet: syed ishtiaq hussain kazmi By: waqas shah, rawalpindiیہ دل خستہ خستہ سدا نہ رہے گا
تم ہی سے وابسطہ سدا نہ رہے گا
ابھی کچھ تقاضے ہیں الفت کے باقی
جو طاری ہے سکتہ سدا نہ رہے گا
کبھی گل و خوشبو میں ہم جا بسیں گے
یہ منزل یہ رستہ سدا نہ رہے گا
اہل حسن دیکھنا جان تک وار دیں گے
میرا دل شکستہ سدا نہ رہے گا
جان و دل لوٹ لو جتنی اب ہے تمنا
دام الفت کا سستہ سدا نہ رہے گا
خزانہ جوانی سے کچھ تم بھی پا لو
یہ موجوں کا رستہ سدا نہ رہے گا
جان لو جو کبھی اس غم کی بدولت ہے اشتیاق
جو ہے حال خستہ سدا نہ رہے گا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






