یہ جو دیوار پہ تصویر لگا رکھی ہے
Poet: Arib Hashmi By: Arib Hashmi, Kharianیہ جو دیوار پہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔تصویر لگا رکھی ہے
جیسے کمرے میں پری کوئی بٹھا رکھی ہے
میرے ہر شعر پہ ہی داد مجھے ملتی ہے
تم نے بس ایک غزل سر پہ اٹھا رکھی ہے
جانے کب تو بھی گزر جائے ہمیں علم نہ ہو
اس لیئے گھر کی یہ دیوار گرا رکھی ہے
میں تجھے زندگی کہتا تھا تجھے یاد نہیں
زندگی اب بھی تو سینے سے لگا رکھی ہے
میں تو ہر بار ہی بازی کو پلٹ دیتا ہوں
وہ جلاتا ہے دیئے میں نے ہوا رکھی ہے
تھا بہت شوق سنورنے کا ۔ ۔ ۔ ۔ اسے تو آرب
کیا ہے حالت یہ جو اب اس نے بنا رکھی ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






