یقین
Poet: Baqar Ali By: Baqar Ali, Dubaiتم بدل جاوگی ایک دن
پلٹ کر پھر ٰٰ آوگی ایک دن
زندگی کی تلاش میں تم بھٹکتی رھو گی دیکھنا
کوئ نہ ملے گا تو مجھے پاؤگی ایک دن
جن ہاتھوں کا لمس ناگوار تھا تمھیں کبھی
انھی بانہوں میں تم سماؤگی ایک دن
تم میرے ہاتھوں کی لکیروں میں بسی ہو
اپنی قسمت کو تم بھی آزماؤگی ایک دن
میری محبت کا یقیں آ ہی جاءےگا تمہیں
اپنے لب تم بھی ہلاؤگی ایک دن
تمہیں ڈر ہے سماج کی دیواروں کا
انہی دیواروں کو خود ڈھاؤگی ایک دن
روح تمھاری ازل سے ہی میری ہے
جسم سے بھی تم سیج سجاؤگی ایک دن
میری زندگی مصرع کی مانند ہے اب تک
اس مصرعے کو تم شیر بناؤگی ایک دن
خدا نے تمہیں میرے لیے ہی بنایا ہے
تم صرف باقر کی کہلاؤگی ایک دن
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






