ہو سکے تو یار اپنے وہ پرانے ڈھونڈنا
Poet: By: اے بی شہزاد, Mailsiہو سکے تو یار اپنے وہ پرانے ڈھونڈنا
پیار کرتے تھے جو مخلص وہ دوانے ڈھونڈنا
بھول پاؤ گے نہیں بچپن کی وہ یادیں کبھی
جب ملے فرصت کھلونے وہ پرانے ڈھونڈنا
جاننا گر چاہتے ہو عشق کے بارے میں تم
ہیر رانجھا لیلی مجنوں کے فسانے ڈھونڈنا
ٹوٹ جائے گا بھروسہ بات میری مان لو
چھوڑ دیتے کیوں نہیں ہو تم بہانے ڈھونڈنا
دوسروں کے آسرے پر تم رہو گے کب تلک
ہے مناسب اب یہی پختہ ٹھکانے ڈھونڈنا
باپ دادا کی وراثت اس میں ہیرے موتی ہیں
جو چھپے ہوئے زمیں میں ہیں خزانے ڈھونڈنا
جانتے شہزاد ہو مخلص نہیں کوئی یہاں
پیار الفت میں جو گزرے ہیں زمانے ڈھونڈنا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






