ہم نہیں ہیں کسی بھی حالت میں
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالہم نہیں ہیں کسی بھی حالت میں
مارے پھرتے ہیں شہرِ حیرت میں
ہوس انگیز تھا بدن اُس کا
چُھو نہیں پائے ہم شرافت میں
ہائے وہ لب، مفارقت کا بیاں
زہر گھولا گیا سماعت میں
جانے کن آنسوؤں کو روتا ہوں
کس کی آنکھوں سے کس کی صورت میں
جو بھی چاہا گیا لکھا لیکن
لفظِ ممکن ہوا نہ قسمت میں
تُو اگرچے تھا منفرد لیکن
دم نہیں تھا تری محبت میں
جانے کس طور ڈھل گیا اک شخص
دید سے خواہش و ضرورت میں
آپ اپنے سے ہوں جواب طلب
کیوں ہوں ناپید اُس کی حجّت میں
کب یہ کارِ جہاں میں گُم سمجھیں
جو مزہ ہے بلا کی فرصت میں
اِک عجب حادثہ ہوا یعنی
میں تجھے چاہ گیا ہوں نفرت میں
بخش دی اپنی بادشاہی بھی
ہم بھکاری ہوئے حکومت میں
کیا بتائیں تری کمی جو ہو
ہم ہیں کنگال اپنی دولت میں
تو کیا خط میں یہی لکھوں اُس کو
دن گزرتے ہیں تجھ سے غفلت میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






