ہم غلام نہیں
Poet: شایان عالم By: شایان عالم, Karachiہم نے توحید کا پرچم اٹھایا ہوا ہے
ظلم کے سامنے سر کو نہ جھکایا ہوا ہے
ہم وہ وارث ہیں جو حق بات کہہ سکتے ہیں
باطلوں کا ہر اک فتنہ مٹایا ہوا ہے
ہم وہ ملت ہیں جو طوفاں میں بھی بہتی نہیں
اپنی غیرت کسی قیمت پہ بھی بیچتی نہیں
جو بھی آئے ہمیں زنجیر میں جکڑنے کو
ہم وہ، جو صدیوں سے روایت میں بھی جھکتی نہیں
ہم وہ احرار ہیں، زنجیر پگھلا دیں گے
ظلم کے قلعے کو یکدم ہی گرا دیں گے
جبر کے سامنے خاموش نہیں رہ سکتے
ہم جو چاہیں گے، تقدیر میں لا دیں گے
یہ زمینیں بھی ہماری ہیں، فلک بھی اپنا
ہم پہ حاکم نہیں دنیا کا کوئی سپنا
کوئی غاصب ہمیں جکڑ نہیں سکتا ہرگز
ہم نے توڑا ہے غلامی کا وہی طوق اپنا
ہم وہ سورج ہیں جو مشرق سے نکلتے ہیں
ہم وہ کُہسار ہیں جو صدیوں سے پلتے ہیں
ہم وہ دریا ہیں جو موجوں سے الجھ جاتے ہیں
ہم وہ طوفاں ہیں جو طوفاں سے بھی لڑ جاتے ہیں
ہم کو جینا ہے، مگر ہاتھ باندھے ہوئے نہیں
کوئی تھوپے گا جو زنجیر، ہم سہنے والے نہیں
ہاتھ میں حریتِ فکر کا پرچم لے کر
ہم کسی طور پہ رستے سے ہٹنے والے نہیں
چاہے صحراؤں میں رستہ ہمیں روکے کوئی
چاہے دریا کی روانی ہمیں بہکا دے کوئی
ہم وہ ملت ہیں جو دشوار مسافت لے کر
ظلم کے تخت کو ملبے میں بدل دے کوئی
ہم وہی لوگ ہیں، بدر و حنین دیکھے ہیں
وقت کے جبر میں حق کے سفینے دیکھے ہیں
ہم نے تاریخ کے صفحات پلٹ ڈالے ہیں
ہم نے ہر دور میں باطل کے نگینے دیکھے ہیں
ہم وہ جاں باز ہیں جو جھک نہیں سکتے کبھی
ہم وہ شمشیر ہیں جو رک نہیں سکتے کبھی
ہم نے سیکھا ہے وفا کا ہر اک دستور
ہم وہ آندھی ہیں جو تھم نہیں سکتے کبھی
یہ جو زنجیر کے قصے ہمیں سناتے ہیں
یہ جو آزادی کے بدلے ہمیں بہکاتے ہیں
یہ جو کہتے ہیں کہ تم صرف پرندے ہو بس
یہ ہمیں قید میں رکھنے کے خواب پالتے ہیں
ہم وہ پرچم ہیں جو آندھی میں بھی گرتے نہیں
ہم وہ فانوس ہیں جو طوفان میں بجھتے نہیں
ہم وہ جذبات ہیں، ہم روشنی کی کرن
ہم وہ نعرے ہیں جو ظلمت میں بھی مرتے نہیں
کوئی بازار میں بیچے نہ ہمیں داموں پر
کوئی قیدی نہ بنا لے ہمیں الزاموں پر
ہم وہ خوددار، ہم آزادی کے پروانے
ہم وہ مجرم نہیں، بکتے نہیں انعاموں پر
ہم وہ امت ہیں جو ہر بار ابھرتی ہے
کبھی مسجد، کبھی میدان میں بکھرتی ہے
یہ جو زنجیر ہمیں ڈالنے آتے ہیں یہاں
ہم وہ شمشیر ہیں جو خود راہ بناتی ہے
ہم نے ماضی میں غلامی کی فضا دیکھی ہے
ہم نے فرعون کی طاقت بھی فنا دیکھی ہے
ہم وہی قوم ہیں، جو وقت کے طوفانوں میں
سینکڑوں بار، مگر فخر سے جاگی ہے
اب نہ جھکنے دیں گے ہم سر کبھی باطل کے تلے
اب نہ بِکنے دیں گے غیرت کسی محفل کے تلے
یہ جو غدار ہمارے بیچ میں بیٹھے ہوئے
ان کو بخشیں گے نہ میدان میں، ساحل کے تلے
ہم نے سچائی کے رستے کو پکڑ رکھا ہے
ہم نے ہمت کی شمعوں کو جلا رکھا ہے
جو ہمیں قید میں رکھنے کے ارادے رکھے
ہم نے ان ہاتھوں سے خنجر کو گرا رکھا ہے
جو ہمیں زخم دیے، ان سے حساب ہوگا
اب ہر اک ظالم کا احتساب ہوگا
ہم نے سیکھا ہے ہر اک سازش کا توڑ
اب غلامی کے ہر خوابوں کا حساب ہوگا
اب نہ طوق و سلاسل ہمیں روکیں گے کبھی
اب نہ زندان کے قفل ہمیں توڑیں گے کبھی
ہم نے ٹھان لی ہے دنیا کو دکھانے کے لیے
اب یہ لمحے ہمیں پھر سے نہ جھکائیں گے کبھی
آج ہم پھر سے یہ دنیا کو جتا دیتے ہیں
اپنے پرچم کو فضا میں ہی اٹھا دیتے ہیں
ہم وہ ملت ہیں جو بکتی نہیں، جھکتی نہیں
ہم جو چاہیں تو زمانے کو ہلا دیتے ہیں
ہم نے تاریخ کی دیوار پہ لکھ رکھا ہے
اپنے اجداد کی تعلیم کو رٹ رکھا ہے
ہم وہ امت ہیں جو قیدوں کو مٹا سکتی ہے
ہر غلامی کے اندھیروں کو جلا سکتی ہے
اے خدا! ہم کو غلامی سے بچا لے مولا
ہم کو سچائی کی روشنی دکھا دے مولا
جو بھی بیچتا ہے ضمیر اپنا زمانے کے لیے
اس کے دل میں تو بصیرت کو جگا دے مولا
اے خدا! شایانؔ کی بس یہ دعا ہے تجھ سے
ہم کو حُرّیتِ ایماں کی عطا دے دعا ہے تجھ سے
ہم وہ خوشبو بنیں، بکھریں فضا میں دعا ہے تجھ سے
ہم کبھی ظلم کے سانچوں میں نہ ڈھل پائیں دعا ہے تجھ سے۔
راہِ نیکی میں تو سچے لوگ بھی ٹوٹ جاتے ہیں
دوست جو ساتھ تھے کبھی نڈر ہمارے اے میاں
وقت کے ساتھ وہ سبھی ہم سے اب چھوٹ جاتے ہیں
ہم چھپائیں کس طرح سے اب محبت کا اثر
دل کے گوشوں سے وہ جذبے خود ہی اب پھوٹ جاتے ہیں
کچھ جو خوابوں کے نگر میں لوگ تھے نکھرے ہوئے
ہو کے بکھرے وہ ہوا کے ساتھ ہی لوٹ جاتے ہیں
جو کیے تھے ہم نے دل کے اس سفر میں وعدے سب
وقت کی قید میں وہ سارے ہم سے اب روٹھ جاتے ہیں
پھول کی خوش بو کی صورت تھی ہماری یہ وفا
یاد کے عالم میں اب وہ سب ہی بس چھوٹ جاتے ہیں
مظہرؔ اب کہتے ہیں یہ سب ہی فسانے پیار کے
کچھ حسیں لمحے بھی دل سے اب تو اتر جاتے ہیں
خواب بکھرے ہیں مرے اس دل کے ہی ویرانے میں
ہم کو تنہا کر دیا احساس کی اس دنیا نے
جیتے ہیں ہم جیسے جلتے ہوں کسی پیمانے میں
ہر قدم ٹھوکر ملی ہے، ہر جگہ دھوکا ملا
پھر بھی تیری یاد آئی ہے ہمیں زمانے میں
اپنے ہی گھر سے ملے ہیں ہم کو اتنے دکھ یہاں
بے وفا نکلے سبھی رشتے اسی خزانے میں
شمعِ امید اب تو آہستہ سے بجھنے لگی ہے
آگ سی اک لگ گئی ہے دل کے اس کاشانے میں
ہر سخن خاموش تھا اور ہر زباں تنہا ملی
غم ہی غم گونجا ہے اب تو بھیگے ہر ترانے میں
دل جسے سمجھا تھا اپنا سب ہی کچھ اے مظہرؔ
اب وہ بھی تو مل نہ سکا ہم کو کسی بہانے میں
نیک سیرت لوگ ہی دنیا میں روشن ہوتے ہیں
جس کی گفتار و عمل میں ہو مہک اخلاق کی
ایسے ہی انسان تو گویا کہ گلشن ہوتے ہیں
نرم لہجہ ہی بناتا ہے دلوں میں اپنی جگہ
میٹھے بول ہی تو ہر اک دل کا مسکن ہوتے ہیں
جن کے دامن میں چھپی ہو عجز و الفت کی ضیا
وہی تو اس دہر میں پاکیزہ دامن ہوتے ہیں
بات کرنے سے ہی کھلتا ہے کسی کا مرتبہ
لفظ ہی تو آدمی کے دل کا درپن ہوتے ہیں
جو جلاتے ہیں وفا کے دیپ ہر اک موڑ پر
وہی تو اس تیرگی میں نورِ ایمن ہوتے ہیں
تلخ باتوں سے تو بس پیدا ہوں دوریاں سدا
اچھے الفاظ ہی تو الفت کا کندن ہوتے ہیں
مظہرؔ اب اپنے سخن سے تم مہکا دو یہ جہاں
اہلِ دانش ہی تو علم و فن کا خرمن ہوتے ہیں
وقت آئے گا تو سورج کو بھی رَستہ دِکھا دیں
اَپنی ہستی کو مٹایا ہے بڑی مُشکل سے
خاک سے اُٹھیں تو دُنیا کو ہی گُلشن بنا دیں
ظُلمتِ شب سے ڈرایا نہ کرو تم ہم کو
ہم وہ جگنو ہیں جو صحرا میں بھی شَمعیں جلَا دیں
اَہلِ دُنیا ہمیں کمزور نہ سمجھیں ہرگز ہم وہ
طُوفاں ہیں جو پل بھر میں ہی بَستی مِٹا دیں
خامشی اپنی علامَت ہے بڑی طاقت کی
لَب ہلیں اپنے تو سوئے ہوئے فتنے جگا دیں
ہم نے سیکھا ہے سَدا صَبر و قناعت کرنا
وَرنہ چاہیں تو سِتاروں سے ہی مَحفل سَجا دیں
راہِ حق میں جو قدم اپنے نِکل پڑتے ہیں
پھر تو ہم کوہ و بیاباں کو بھی رَستہ دِکھا دیں
مظہرؔ اَب اپنی حقیقت کو چھُپائے رَکھنا
وقت آئے گا تو ہم سَب کو تماشا دِکھا دیں






