ہم سارے زمانے کی خبر ڈھونڈ رہے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, malaysiaہم سارے زمانے کی خبر ڈھونڈ رہے ہیں
وہ حاشیہ پیمائی میں در ڈھونڈ رہے ہیں
روپوش ہے تو اپنی کہانی کی زمیں میں
سب تیرے خیالوں کی خبر ڈھونڈ رہے ہیں
جب اپنی کسی بات سے مایوس نہیں ہیں
پھر کیوں وہ کسی غیر کا در ڈھونڈ رہے ہیں
دریاؤں سے گزرے ہیں کئی بار مگر اب
یادوں کے سمندر میں سفر ڈھونڈ رہے ہیں
ملتا ہی نہیں ہم کو ترے پیار کا منظر
اس بار مگر بارِ دگر ڈھونڈ رہے ہیں
شاید وہ کسی روز مری سوچ میں اترے
اس شخص کو مدت سے اگر ڈھونڈ رہے ہیں
افلاک میں کھو کر کبھی واپس نہیں لوٹی
تارں پہ جو ڈالی تھی نظر ڈھونڈ رہے ہیں
وہ صبح کے بھولے ہوئے لوٹ آئیں گے وشمہ
ہم کب سے کھڑے راہ گزر ڈھونڈ رہے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






