ہم جو گزرے ہوئے لمحوں کی طرف دیکھتے ہیں
Poet: ریاض By: ریاض, Gujranwalaہم جو گزرے ہوئے لمحوں کی طرف دیکھتے ہیں
ایسا لگتا ہے کہ صدیوں کی طرف دیکھتے ہیں
جن کو معلوم ہے نیندوں کے اجڑنے کا عذاب
جاگتی آنکھ سے خوابوں کی طرف دیکھتے ہیں
یاد آتا ہے ہمیں آپ کا چہرہ اکثر
ہم اگر چاند ستاروں کی طرف دیکھتے ہیں
منتظر ہوں گے کئی دن سے کسی کے شاید
لوگ حسرت سے جو رستوں کی طرف دیکھتے ہیں
اس کی اک بار نظر پڑنے پہ مغرور نہ بن
لوگ بازار میں کتنوں کی طرف دیکھتے ہیں
ایسی ترتیب سے زخموں کو سیا ہے میں نے
چارہ گر غور سے ٹانکوں کی طرف دیکھتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






