ہم تیری راہ دیکھتے ہیں
Poet: عاقِب مجطبے آزاد By: Aqib Mujtaba Azad, Jammuاپنے کمرے کی کھڑکی سے ہم تیری راہ دیکھتے رہتے ہیں
تیرے شہر سے آتی ہوا ہم محسوس کرتے رہتے ہیں
انتظار ہے تری آمد کا اب آ بھی اے گل بدن
ترا ذکر محفلِ یاراں میں ہم اکثر کرتے رہتے ہیں
بےکاری میں اک لمحہ بھی نہیں گزارتے ہم جانِ جاں
پڑھائی کے بہانے رکھی کتاب میں تری تصویر دیکھتے رہتے ہیں
اس مطلبی دنیا کا یہ شہر چھوڑ جائیں ہم
مگر وہ آ رہے ہیں اسی انتظار میں جیتے رہتے ہیں
ڈرتے ہیں ساتھ چھوڑ نہ جائے آزاد یہ زندگی پہلے
آئی اُن کی مر جائیں ہم پر یہ دعا کرتے رہتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad








