ہمارے ربط میں دلبر یہاں ہر چیز حائل ہے
Poet: محمد اطہر طاہر By: Athar Tahir, Haroonabadکبھی سروس معطل ہے
کبھی کمزور سگنل ہے
کبھی بجلی کی بندش ہے
بیٹری بھی نامکمل ہے
کبھی پیکج نہیں باقی
ابھی تو کال مشکل ہے
ہمارے ربط میں دلبر
یہاں ہر چیز حائل ہے..
کبھی بھیا کی آمد ہے
کبھی پاپا ہیں گھر پر
ہزاروں کام ہیں گھر کے
مما بیٹھی ہیں سرپر
ابھی تو بات نہیں ممکن
ابھی میسج بھی مشکل ہے
ہمارے ربط میں دلبر
یہاں ہر چیز حائل ہے..
گلی میں رک نہیں سکتی
میں چھت پر آ نہیں سکتی
میں تیری دید کی خاطر
کہیں بھی جا نہیں سکتی
کہیں بھی آنے جانے پر
پابندی بھی مکمل ہے
ہمارے ربط میں دلبر
یہاں ہر چیز حائل ہے..
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






