ہر سانس میں لپٹا ہوا اک سوزِ کہن ہے
Poet: سید نیر مقیت By: Syed Abdu Muqeet, Karachiہر سانس میں لپٹا ہوا اک سوزِ کہن ہے
یہ جسم نہیں درد کا پہنا ہوا تن ہے
بلبل ہے نہ گل ہے نہ کوئی تم سا چمن ہے
یہ شورِ انا ہی مرے ہونے کا چلن ہے
توبہ تو کری تھی تیری آغوش سے زیبا
بستر کی شکن آج کی شب توبہ شکن ہے
وہ لمس ابھی تک مری تحویل میں کیوں ہے
وہ جسم ابھی تک مرے حصّے کا بدن ہے؟
ہر سانس میں اک آگ سی کیوں رقص کناں ہے
یہ کون میری قید میں بیدار فِتَن ہے
ہر سوچ سے ہوتی ہے کسی قَبر میں رونق
ہر سوچ مری ذات کا اک تازہ کفن ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






