ھاتھ میں تیرا ھاتھ نہ ہو کب اچھا لگتا ھے
Poet: Tanvir Sheraz By: Tanvir Sheraz, (Khurrianwala) Faisalabadہاتھ میں تیرا ہاتھ نہ ھو کب اچھا لگتا ھے
تم سے دل کی بات نھ ھو کب اچھا لگتا ھے
شاعر کی حیثیت سے کسی بھی محفل میں بیٹھوں
اس میں تیری ذات نہ ھو کب اچھا لگتا ھے
ھر محفل میں ھر بازی میں جیتوں تیری چاھت میں
تم سے جب تک مات نہ ھو کب اچھا لگتا ھے
چاند ستاروں سے اور سورج دھرتی سے مل لے
تیرا میرا ساتھ نہ ھو کب اچھا لگتا ھے
ھم تم مل کر نکلیں اور پھولوں کا ساتھ بھی ھو
باغوں میں برسات نہ ھو کب اچھا لگتا ھے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






