کیوں رنجشیں اب اور بڑھانے کے لیے جاؤں
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, جھنگکیوں رنجشیں اب اور بڑھانے کے لیے جاؤں
کیوں پھر سے میں رسوائی اٹھانے کے لیے جاؤں
رکّھا نہ ذرا جس نے بھرم میری وفا کا
اے دل میں اسے کیسے منانے کے لیے جاؤں
جب توڑ دیئے اس نے وہ جذبات کے رشتے
پھر کیسے مراسم میں نبھانے کے لیے جاؤں
دنیا کے دکھانے کو بلا بھیجا ہے اس نے
حد ہے کہ میں اب صرف زمانے کے لیے جاؤں
تنہائی میں اب روئے وہ دیواروں سے لگ کر
کیوں سینے لگا کر میں رلانے کے لیے جاؤں
جس شخص نے رکّھا مجھے اَنْدھیروں میں ہر دم
کیوں اس کے لیے شمعیں جلانے کے لیے جاؤں
لکّھے تھے کبھی میں نے جو پیڑوں کے تنوں پر
اب نام وہ سارے ہی مٹانے کے لیے جاؤں
بِھجوائے جو نذرانے دغاباز نے مجھ کو
کس گور میں اب ان کو دبانے کے لیے جاؤں
جس شہر میں اجڑا مرا بستا ہوا سنسار
اس شہر کو میں آگ لگانے کے لیے جاؤں ؟
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






