کہا سُنا اور برکھا
Poet: azharm By: Azhar, Dohaاُجاڑ رستے، اداس گلیاں
عجیب برکھا، مہیب بجلی
یہ کہہ رہے ہیں، اگر سُنو تو
کبھی مداوا تو ہو سکے گا
کہا جو تُم نے، سنا جو میں نے
سنا جو تُم نے، کہا جو میں نے
یہاں سے دیکھوں وہاں کھڑی ہو
جبیں تُمہاری یہ چھوتی بوندیں
سُنا رہی ہیں پرانی باتیں
کبھی جو غصے میں آ گئے تھے
کہا جو تُم نے سُنا تھا میں نے
سُنا جو تُم نے، کہا تھا میں نے
ارے جو بجلی چمک رہی ہے
سنو کے غصے میں کہ رہی ہے
یہ میری باتیں یہ تیری باتیں
عجیب باتیں، فضول باتیں
محبتوں میں یہ باتیں کیسی
اداس برکھا کی راتیں کیسی
سنو یہ برکھا تو تھم رہی ہے
یہیں پہ رہنا یہ کہہ رہی ہے
کہا سُنا بھی ، سنا کہا بھی
یہیں پہ رہتے بھلا سکیں گے
اسی بہانے یہ آس ہو گی
قریب پھر سے تو آ سکیں گے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






