کہاں تک گئے ہم وفا کرتے کرتے
Poet: Khalid Mahmood By: Khalid Mahmood, Abhaکہاں تک گئے ہم وفا کرتے کرتے
بتا دی عمر یہ خطا کرتے کرتے
وفاؤں کے بدلے جفاؤں کو پایا
محبت کی رسمیں ادا کرتے کرتے
تیرے عشق کی جستجو دل میں لے کر
چلے آئے در پہ دعا کرتے کرتے
برسوں کے بعد گر وہ ملا بھی
گزارا وقت پھر گل وہ کرتے کرتے
سکھائے رموز محبت کسی نے
کبوتر فضا میں رہا کرتے کرتے
رخت سفر باندھ کر چل پڑا وہ
مریض محبت دوا کرتے کرتے
بھلانے کی کوشش میں ہاد آ گئے وہ
یہ کیا ہو گیا ہم سے کیا کرتے کرتے
کہیں ٹوٹنے پائیں نہ دل کے رشتے
رہے ہم کسی سے نبھاہ کرتے کرتے
میرے روز و شب کا ہو آغاز یوں ہی
تیرے نام سے ابتدا کرتے کرتے
سفر زندگی کا کٹے کیسے خالد
پھولوں سے خوشبو جدا کرتے کرتے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






