کچھ دیپ محبت کے جلانے کے لیے آ
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: ارم مشتاق, Lahoreکچھ دیپ محبت کے جلانے کے لیے آ
آ پھر سے کوئی شام سجانے کے لیے آ
بے رنگ سا امبر ہے کئی بیتے ہیں ساون
پھر کوئی دھنک مجھ کو دِکھانے کے لیے آ
میں دشت کی مٹی ہوں تو پربت کا ہے جھرنا
آ میری کبھی پیاس بجھانے کے لیے آ
فرقت کا یہ موسم مرا دم گھونٹ رہا ہے
سانسوں سے مری سانس ملانے کے لیے آ
جاتے ہوئے کہہ جانا کہ ہم پھر سے ملیں گے
جھوٹی ہی سہی آس لگانے کے لیے آ
مایوس سا پنچھی ہے نشیمن میں جو بیٹھا
تو اس کو فضاؤں میں اڑانے کے لیے آ
میں ایک زمانے سے ہوں بیگانہ سا خود سے
تو مجھ کو مرا حال سنانے کے لیے آ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






