کوئی بے خود بنائے تو میں کیا کروں
Poet: عبدالحفیظ اثر By: عبدالحفیظ اثر, Mumbai, Indiaکوئی بے خود بنائے تو میں کیا کروں
ہوش میرا اڑائے تو میں کیا کروں
چشمِ ساقی نے تو مست کر ہی دیا
وہ نظر سے پلائے تو میں کیا کروں
مجھ کو معلوم کیا میں تو ہوں بے خبر
کوئی دل میں سمائے تو میں کیا کروں
پاس میرے کوئی دور ہو بھی کوئی
کوئی قربت بڑھائے تو میں کیا کروں
یہ محبت کی راہوں میں راحت ہی ہے
نہ سمجھ کوئی پائے تو میں کیا کروں
دید کی آرزو تو ہمیشہ رہے
کوئی خود کو چھپائے تو میں کیا کروں
کوئی گزرے جو دل سے نہ آہٹ ہی ہو
کوئی چھپ کر بلائے تو میں کیا کروں
اثر تو بے خودی میں کہاں کھو گیا
نہ پتہ کوئی پائے تو میں کیا کروں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






