کلام: حضرت بو علی قلندر
Poet: By: مترجم: مقصود حسنی, kasurاے شرف چاہے ہے اگر وصل حبیب
نالہ کرتا رہ روز و شب جوں عندلیب
مریض عشق اور بےزار از جان ہوں
مرے دست پر نبض کیوں رکھے طبیب
رسم و راہ نہ جانے کہ ہر کوئی
دیار عاشقی میں مانند غریب
شربت دیدار خوش آتا ہے دل داروں کو
نصیب میں ہے یا ہوں میں بےنصیب
اس سے دور ہائے ہائے میں دور ہوں
مگر رگ جان سے بھی وہ مرے قریب
سر پر تنی ہے تیغ محتسب
دل میں پوشیدہ اسرار عجیب
بو علی شاعر ہوا ساحر ہوا
کرے ہے انگیزی خیالات غریب
'''''''''''''''''''''
اگر رند ہوں اگر میں بت پرست ہوں
قبول کر خدایا جو جیسا بھی ہوں
ننگ و عار نہیں بت پرستی سے
کہ یار بت ہے میں بت پرست ہوں
پیچ و تاب عشق میں گرفتار ہوں
دل اندر زلف پیچان کا بسیرا ہے
'''''''''''''''''''''
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






