کس قدر باتوں میں کمال ہمیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاکس قدر باتوں میں کمال ہمیں
پھر سے ڈالو یہی دھمال ہمیں
اپنی صورت پہ تبصرہ نہ کرو
اپنی سیرت کا ہے خیال ہمیں
مجھ کو معلوم تھا یہ دن ہو گا
تم کرو گے نیا سوال ہمیں
تم بھی دہراؤ یہ میں بھی دہراؤں
سال نو کا یہی کمال ہمیں
جو بھی آنکھوں میں کھو گئے لحمے
یادِ ماضی نہ دیتے حال ہمیں
تیری یادوں کی شام کے سائے
مجھ کو مشکل میں دیتے ڈال ہمیں
ہم کو معلوم کب ہوا وشمہ
کیسے گزرا نیا یہ سال ہمیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






