کر کے جفا بدلے میں وفا مانگنے لگا
Poet: مرزا عبدالعلیم بیگ By: مرزا عبدالعلیم بیگ, Hefei, Anhui, P.R. Chinaکر کے جفا بدلے میں وفا مانگنے لگا
خوب ظرف تھا برگشتہ صلہ مانگنے لگا
جب سے عزیز ہوئی اُسے میری زندگی
تب سے موت کی دعا میں مانگنے لگا
کچھ وقت ہی تو گزرا غنچہ کھلے ہوئے
باغیچہ بے سبب موسمِ خزاں مانگنے لگا
خونِ جگر، دل کی خلش، سینے کی تپک، آنکھ سےنمی
زیست کا شجر بھی آب و ہوا مانگنے لگا
بعد از سزا، ہمدریاں یوں اُس نے کیں
میں بے خطا، بے خطر سزا مانگنے لگا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






