کرتے ہیں محبت ہم تمہیں سے
Poet: assadullah By: Asadullah abbasi, ISlamabadکرتے ہیں محبت ہم تمہیں سے
تو پھر کسی اور سے دل لگانا کیا
چاہا تھا صرف تمہیں
تو پھر کسی اور کو منہ لگانا کیا
جب تم ہی ہمیں بھول گۓ ہو
تو پھر تیری یادوں کو دل سے لگانا کیا
جب تم ہی نے بیوافاۓ کی ہم سے
تو پھر وفا کا عہد نبھانا کیا
دیکھے تھے ہم نے تیرے خواب ہر پل
اب ان کی تعبیر کو جیتانا کیا
جب تم ہی ہمیں چھوڑ گۓ ہو
تو پھر کسی اور کو گلے لگانا کیا
جب تم ہی ہم سے روٹھ گۓ
تو پھر کسی اور کو منانا کیا
بہت دور نکل گۓ ہم محبت کی راہوں میں
اب وہاں سے واپس آنا ہی کیا
کتنے ہی دن یوں ہی گزریں گۓ تیرے انتظار میں
تو پھر اس دن رات کو گنانا کیا
جب میری خاموش محبت بھی تمہیں قائل نہ کرسکی
تو پھر لفظوں کے ذخیرے کو لٹانا کیا
جب تمہیں ہی ہم سے الفت نہی رہی
پھر تم سے ملنے کے بہانے بنانا کیا
ہو جائے علم تمہیں ہماری چاہت کا
تو پھر لفظوں کا خالی مہفوں کو پلٹانا کیا
تمہیں ہر حال میں لوٹنا ہو گا اسد
تو پھر اتنا انتظار کرانا کیا
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






