کبھی ہنستی ہیں یہ، تو کبھی اشکبار ہیں آنکھیں
Poet: Mubashir jameel By: Mubashir Jameel , Karorpakkaکبھی ہنستی ہیں یہ، تو کبھی اشکبار ہیں آنکھیں
کسی کے لوٹ آنے کا، بس انتظار ہیں آنکھیں
بھروسہ ٹوٹ جائے تو، چمک بھی کھو سی جاتی ہے
محبت میں کبھی رسوا، کبھی خوار ہیں آنکھیں
یہ اپنے دکھ چھپانے میں، بڑی ماہر ہیں دنیا سے
مگر اندر سے کتنا ہی، بے قرار ہیں آنکھیں
تھکن چہرے پہ آتی ہے، مگر یہ جاگتی رہتی ہیں
کسی کی یاد میں شاید، لاچار ہیں آنکھیں
جو اپنے دل میں حسرت ہو، وہ پڑھ لیتی ہے دنیا بھی
ہمارے حالِ دل کا اب، اشتہار ہیں آنکھیں
جو خوشخبریاں سناتا تھا سب کو بستی میں
مبشرؔ آج تری کیوں بے زار ہیں آنکھیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






