کبھی ہم قدم تھے میرے بہاروں کے قافلے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, نیویارککبھی ہم قدم تھے میرے بہاروں کے قافلے
ایک حسین خواب کا محور تھی زندگی
ہم جاگتے تھے رات دن تیرے خیال میں
کچھ بھی تو فرق نہ تھا ماہ اور سال میں
لکھتے تھے چاندنی میں غزلیں کبھی کبھی
تو ساتھ تھا تو ہم کو پیاری تھی زندگی
اڑتی تھیں ہم کو لے کر گلشن میں تتلیاں
کرتے تھے رنگ و نور سے خوشبو سے مستیاں
اب تو نہیں ہے ساتھ تو گلشن اداس ہے
اب چاند بھی نہیں ہے، نہ بجھتے دیئے کی لو
اب تیرے انتظار کے موسم ہیں اور میں
خزاں اور خار کے موسم ہیں اور میں
بانہوں میں ایک دردِ محبت ہے اور میں
آنگن میں دوڑتی ہوئی یادوں کے قافلے
بچھڑے ہوئے ہیں کب سے بہاروں کے قافلے
اب کھو دئیے ہیں میں نے ستاروں کے قافلے
تنہائیاں ہیں میرے ہمرکاب لوٹ آ
اے مرے ہمدرد میرے یار لوٹ آ
اک بار لوٹ آ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






