کبھی تو دیکھ لو آکر میں کیسے کاٹتی ہوں رات
Poet: Sara Afzal By: Sara Afzal, Pakistanکبھی تو دیکھ لو آ کر میں کیسے کاٹتی ہوں رات
تمنا ہے کہ میری زندگی میں ہو تمہارا ساتھ
چلے آؤ میں ویراں ہو تمہارے بن مرے ہمدم
بگڑ نہ جائیں میری زیست کے کچھ اور بھی حالات
کوئی دنیا میں تم جیسا دکھائی نہ دیا مجھکو
کسی میں آج تک دیکھی نہیں تم سی کوئی بھی بات
بچھڑ کر تم سے کچھ بھی تو نہیں اب میری دنیا میں
مقدر نے مجھے ہر موڑ پر دے دی ہے کیسی مات
اکیلی کچھ نہیں ہوں جانتی ہوں اس قدر سارہ
اسی کی ذات میں گم ہو گئی ہے آج میری ذات
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






