چہرے پہ اس کے دیکھی نزاکت کمال ہے
Poet: اےبی شہزاد میلسی By: AB shahzad, Mailsiچہرے پہ اس کے دیکھی نزاکت کمال ہے
رہتا حجاب میں ہے شرافت کمال ہے
ہے زینہار دل میں حقیقت یہی ہے سچ
آشوب ہے ہرطرف یہ شرارت کمال ہے
چھوئے ہیں لمس پھول سجائے ہیں زلفوں میں
کیسے اسے میں چھوڑوں رفاقت کمال ہے
انکار کرتا ہی نہیں ایسا ہے دل کا وہ
مالوف میرے کی یہ محبت کمال ہے
بن مانگے دینا ہے جو عنایت ہے یار کی
رکھتا وہ اپنے دل میں رعونت کمال ہے
دن رات سوچتا ہوں یہی روز دوستو
صدمہ نہیں وہ بھولا عداوت کمال ہے
گرویدہ اس لیے ہوا ہوں میں دیکھ کر
شہزاد دیکھی اس میں ذہانت کمال ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






