چھوڑ کے جاسکتے ہو
Poet: نعمان صدیقی By: Noman Baqi Siddiqi, Karachiتھک گئے ہو تو تھکن چھوڑ کے جاسکتے ہو
تم مجھے واقعتاً چھوڑ کے جاسکتے ہو
تم سے باتوں میں مَیں اتنا ہی مگن ہوتی ہوں
مجھ کو باتوں میں مگن چھوڑ کے جاسکتے ہو
کی زمین میں
بیزار ہو تو چمن چھوڑ کے جا سکتے ہو
تم مجھے دفعتاً چھوڑ کے جا سکتے ہو
میری لگن بھی یہاں میری محنت بھی یہاں
تم اپنا جتن چھوڑ کے جا سکتے ہو
مجھے یہیں پہ رہنا ہے یہی مناسب ہے
تم اپنا وطن چھوڑ کے جا سکتے ہو
میں نے تو اپنی چال چل دی ہے
تم اپنا چلن چھوڑ کے جاسکتے ہو
میں ہمیشہ تمہیں یاد رکھوں گا
تم یہ ملن چھوڑ کے جا سکتے ہو
مجھے تو یہاں پر سکون ملتا ہے
تم یہ مسکن چھوڑ کے جا سکتے ہو
روح نے نعمان اک دن تو جانا ہے
جسم اپنا دفن چھوڑ کے جا سکتے ہو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






